| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
عرض کیا کہ بے شک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سوائے میری جان کے جو میرے دو پہلوؤں میں ہے، میرے نزدیک ہر شے سے زیادہ محبوب ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:'' تم میں سے کوئی ہر گز مومن(کامل) نہیں بن سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔'' یہ سنکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں عرض کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر کتاب نازل فرمائی ۔ بیشک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے نزدیک میری جان سے جو میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
'' اَلاٰن یا عمر
یعنی ہاں اب!اے عمر!۔''
(صحیح البخاری، کتاب الایمان والنذور،باب کیف کانت یمین النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم،الحدیث۶۶۳۲،ج۴،ص۲۸۳)
(۲) حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کیں۔ دوسری حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے زیادہ جلالت و ہیبت والا نہ تھا۔ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ہیبت کے سبب سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔''(الشفاء،الباب الثالث،ج۲،ص۶۸)
(۳)جب فتح مکہ کے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد ابو قحافہ ایمان لائے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم خوش ہوئے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ