Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
73 - 273
ایمان لائے۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے اپنے کرتے کا ایک ٹکڑا عنایت فرمائیے میں اس سے انس رکھتا ہوں۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انکی درخواست منظور فرما کر اپنے کرتے کا ایک ٹکڑ ا عنایت فرمایا۔ محمد بن جابر کا بیان ہے کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا، وہ قطعہ ہمارے پاس تھا ہم اسے دھو کر بغرض شفاء اپنے بیماروں کو پلایا کرتے تھے۔
 (الخصائص الکبریٰ،باب ما وقع فی وفد بنی حنیفۃ من الآیات،ج۲،ص۲۶)
 (۹)عصائے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی برکات : جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میرے پاس غزوہ ذات الرقاع میں ایک اونٹ تھا جس کا گھٹنا ٹوٹا ہو ا تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے پاس سے گزرے مگر اونٹ کی سست روی اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی کہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ساتھ دے سکوں مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے سارا ماجرا سنایا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عصاء لیکر اونٹ پر تین مرتبہ گِھسااو ر پھر پانی کا چلو بھر کر اس پر چھڑکا اور حکم دیا کہ سوار ہو جاؤ مجھے قسم ہے اس خدا عزوجل کی جس نے ہم پر ایک سچا رسول مبعوث فرمایا،  آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم جس قدر تیز چلاتے تھے میرا اونٹ پیچھے نہ رہتا اور میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہمراہ ہی رہتا تھا۔
(الخصائص الکبریٰ، کتاب ذکر معجزاتہ فی ضروب الحیوانات، باب قصۃ الجمل والناقۃ،ج۲،ص۹۷)
 (۱۰)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ منبر رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر، جہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم بیٹھا کرتے تھے، رکھا اور پھر فرط محبت سے اپنے چہرے پر پھیر لیا۔
Flag Counter