حافظ ابو نعیم متوفی(۴۳۰ ھ) نے بروایت عبادبن عبدالصمد نقل کیاہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں آئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنیز سے کہا کہ دستر خوان لاؤتا کہ ہم چاشت کا کھانا کھائیں،وہ لے آئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ رومال لا ؤوہ ایک میلا رومال لے آئی۔ آپ نے فرمایا کہ تنورگرم کر اس نے تنور گرم کیا پھر آپ کے حکم سے رومال اس میں ڈال دیاگیا ۔ وہ ایسا سفید نکلا گویا کہ دودھ ہے۔ہم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے روئے مبارک کو مسح فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ میلا ہوجاتا ہے تو اسے ہم یوں صاف کرلیتے ہیں کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے روئے مبارک پر سے گزری ہو۔