Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
72 - 273
تو زمین پر پہنچتے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بالوں کو اتنا کیوں بڑھایا؟ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے ان کو نہیں کٹواتا کہ ایک وقت ان پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دست مبارک لگاتھااس لئے میں نے تبرکاً ان بالوں کو چھوڑ رکھا ہے۔
 (مدارج النبوت،باب نہم،واجبات حقوق آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ...الخ،ج۱،ص۳۱۶)
حافظ ابو نعیم متوفی(۴۳۰ ھ) نے بروایت عبادبن عبدالصمد نقل کیاہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں آئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنیز سے کہا کہ دستر خوان لاؤتا کہ ہم چاشت کا کھانا کھائیں،وہ لے آئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ رومال لا ؤوہ ایک میلا رومال لے آئی۔ آپ نے فرمایا کہ تنورگرم کر اس نے تنور گرم کیا پھر آپ کے حکم سے رومال اس میں ڈال دیاگیا ۔ وہ ایسا سفید نکلا گویا کہ دودھ ہے۔ہم نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے روئے مبارک کو مسح فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ میلا ہوجاتا ہے تو اسے ہم یوں صاف کرلیتے ہیں کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے روئے مبارک پر سے گزری ہو۔
                     (شواہد النبوۃ،رکن خامس،ص۱۸۱)
ہرچہ اسباب جمال است رخ خوب ترا          ہمہ بروجہ کمال است کما لایخفی
 (۸) قطعہ پیراہن کی تاثیر : حضرت محمد بن جابر کے دادا سنان ابن طلق الیمامی وفد بنی حنیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور
 (۷)مسح دست کا کمال:
Flag Counter