(۵)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ! میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کردیاہے، میں اسے اس کے خاوند کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں، میرے پاس کوئی خوشبو نہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کچھ عنایت فرمائیں۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: میرے پاس موجود نہیں مگر کل صبح ایک چوڑے منہ والی شیشی اور کسی درخت کی لکڑی میرے پاس لے آنا۔ دوسرے روزوہ شخص شیشی اور لکڑی لیکر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے دونوں بازوؤں سے اس میں اپنا پسینہ مبارک ڈالنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ بھر گئی پھر فرمایا کہ اسے لے جاکراپنی بیٹی سے کہہ دینا کہ اس لکڑی کو شیشی میں ترکر کے مل لیا کرے۔ پس جب وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پسینہ مبارک کو لگاتی تو تمام اہل مدینہ کو اس کی خوشبو پہنچتی یہاں تک کہ اس کے گھر کا نام ''بیت مطیّبین''(یعنی خوشبو والوں کا گھر) ہوگیا۔