Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
70 - 273
جب وہ باہر نکلتے تو لوگ کہتے کہ ہم نے عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خوشبو سے بڑھ کر کوئی خوشبونہیں سونگھی۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ ہم استعمالِ خوشبو میں کوشش کرتی ہیں اور تم ہم سے زیادہ خوشبودار ہو ، اس کا سبب کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عہد مبارک میں میرے بدن پر آبلے نمودار ہوئے میں خدمت نبوی میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ کپڑے اتاردو۔ میں نے ستر کے علاوہ کپڑے اتار دئیے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنا لعاب اپنے دست مبارک پر ڈال کر میری پیٹھ اور پیٹ پر مل دیا اس دن سے مجھ میں خوشبو پیدا ہوگئی۔
 (الاستیعاب،باب حرف العین ،عتبہ بن فرقد،ج۳،ص۱۴۸)
(۴) پسینہ مبار ک : حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خادم حضرت انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا۔ حالت خواب میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پسینہ آیا، میری ماں ام سُلیم نے ایک شیشی لی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پسینہ مبارک اس میں ڈالنے لگیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: ام سلیم تم یہ کیا کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کاپسینہ ہے ہم اس کو اپنی خوشبو میں ڈالتے ہیں اور وہ سب خوشبوؤں سے عمدہ خوشبو ہے۔ 

    دوسری روایت مسلم میں ہے کہ ام سلیم نے یوں عرض کیا ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہم اپنے بچوں کے لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عرق مبارک کی برکت
Flag Counter