| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
پیچھے ہولیا۔ جب کپڑے کا دامن ایک طر ف ہو ا تو میں نے مہر نبوت کو ویسا ہی پایا جیسے مجھے بتایا گیا تھا، میں جذبات سے اس قدر مغلوب ہوا کہ بے اختیار مہر نبوت کو بڑھ کر چوم لیا اور رونے لگا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھے اپنے پاس بلالیا، میں نے اپنی ساری سرگزشت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو سنائی آپ نے اسے پسند فرمایا،صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی میر ی سرگزشت سنی ۔
(شواہد النبوۃ،رکن رابع، ص۸۴)
(۲)موئے مبارک : مقام حدیبیہ میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بال بنواکرتمام بال مبارک ایک سبز درخت پر ڈال دئیے۔ تمام اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اسی درخت کے نیچے جمع ہوگئے اور بالوں کو ایک دوسرے سے چھیننے لگے۔ حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکہتی ہیں کہ میں نے بھی چند بال حاصل کرلئے۔ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں ان مبارک بالوں کو پانی میں ڈبو کر پانی مریض کو پلاتی تورب العزت اسے صحت عطا کردیتا۔
(مدارج النبوت،قسم سوئم،باب ششم،ج۲،ص۲۱۷)
(۳)لعاب مبارک : عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں موصل کوفتح کیا ان کی بیوی ام عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں ہم چار عورتیں تھیں ہم میں سے ہر ایک خوشبو لگانے میں کوشش کرتی تھیں تا کہ دوسری سے اطیب ہو اور عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوئی خوشبو نہ لگاتے تھے مگر اپنے ہاتھ سے تیل مل کر داڑھی کو مل لیتے تھے اور ہم میں سب سے زیادہ خوشبودار تھے