Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
68 - 273
جس کی صحبت میں تمھیں امن و سلامتی نصیب ہو، ہاں! عنقریب نبی آخرالزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لارہے ہیں جو دین ابراہیمی پر ہوں گے، ان کی ہجرت گا ہ ایسا مقام ہوگا جو دو پہاڑوں کے درمیان ہوگااور اس میں کھجور کے درخت کثرت سے پائے جائیں گے،نبی آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی،آپ ہدیہ قبول کریں گے صدقہ نہیں کھائیں گے۔
    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نصیحت کو پیش نظر رکھا اورملک عرب کی طرف رخ  کیا جونہی وہ مدینہ پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہجرت کرکے قبا تشریف لاچکے تھے۔ سلمان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں کچھ چیزیں لیکر حاضر ہوئے او ر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے عرض کیا: یہ صدقہ ہے ، حضور قبول فرمائیے! آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا :تم کھالو لیکن خود نہ کھایا۔ حضرت سلمان نے دل میں کہا ایک نشانی تو پوری ہوگئی۔ سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں بعد ازاں میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جماعت میں مل گیا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم قبا سے مدینہ تشریف لائے تو میں کچھ چیزیں لیکر حاضر خدمت ہو ا اور عرض کی! حضور یہ ہدیہ ہے قبول فرمائیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کیساتھ مل کر کھالیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا دو علامتیں پوری ہوگئیں۔
     اس کے بعد میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم جنت البقیع میں ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کندھوں پر دو شالہ تھا جسے آپ چادر اور ازار کے طور پر استعمال کررہے تھے ۔میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیچھے
Flag Counter