(۱۰) حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھانجے تھے اور وہ ان سے بہت محبت فرماتی تھیں۔ انھوں نے ہی گویا بھانجے کو پالا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ا س فیاضی سے پریشان ہو کر کہ خود تکلیفیں اٹھاتیں اور جو آئے فوراََ خرچ کردیتیں ایک مرتبہ کہہ دیا کہ خالہ کا ہاتھ کس طرح روکنا چاہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی یہ فقرہ پہنچ گیا۔ اس پر ناراض ہوگئیں کہ میرا ہاتھ روکنا چاہتا ہے اور ان سے نہ بولنے کی نذر کے طور پر قسم کھائی۔ حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خالہ کی ناراضگی سے بہت صدمہ ہوا، بہت لوگوں سے سفارش کرائی مگر انھوں نے اپنی قسم کا عذر فرمادیا۔
آخر جب عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی پریشان ہوئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ننھیال کے دو حضرات کو سفارشی بنا کر ساتھ لے گئے وہ دونوں حضرات اجازت لیکر اندر گئے یہ بھی چھپ کر ساتھ ہولئے جب وہ دونوں سے پردہ کے اندر بیٹھ کر بات چیت فرمانے لگیں تو یہ جلدی سے پردہ میں چلے گئے او ر جاکر خالہ سے لپٹ گئے اور بہت روئے اور خوشامد کی وہ دونوں حضرات بھی سفارش کرتے رہے اور مسلمان سے بولنا چھوڑنے کے متعلق حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ارشادات یاد دلاتے رہے اور احادیث میں جو ممانعت اس کی آئی ہے وہ سناتے رہے جس کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی تاب نہ لاسکیں اور رونے لگیں آخر معاف فرمادیااور بولنے لگیں، لیکن اپنی قسم کے کفارہ میں باربار غلام آزاد کرتی تھیں، حتی کہ