| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ایک خدمت گا ر مانگ لوتا کہ تم کو کچھ مددمل جائے۔ و ہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں وہاں مجمع تھا اور حیاء مزاج میں بہت زیادہ تھی اس لئے حیاء کی وجہ سے سب کے سامنے باپ سے بھی مانگتے ہوئے شرم آئی، واپس آگئیں۔ دوسرے روز حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم خود تشریف لائے ، ارشاد فرمایاکہ فاطمہ!رضی اللہ عنہا کل تم کس کا م کے لئے گئی تھیں وہ حیاء کی وجہ سے چپ ہوگئیں ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ان کی یہ حالت ہے کہ چکی کی وجہ سے ہاتھوں میں گٹھے پڑگئے اور مشک کی وجہ سے سینہ پر رسی کے نشان ہوگئے، ہروقت کے کام کاج کی وجہ سے کپڑے میلے رہتے ہیں۔ میں نے کل ان سے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس خادم آئے ہوئے ہیں ایک یہ بھی مانگ لیں اس لئے گئی تھیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ! میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ہی بستر ہے اور وہ بھی مینڈھے کی ایک کھال ہے رات کو اسکو بچھاکر سوجاتے ہیں صبح کو اسی پر گھاس دانہ ڈال کر اونٹ کو کھلاتے ہیں۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیٹی صبر کرو! حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی بیوی کے پاس دس برس تک ایک ہی بچھونا تھا وہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چوغہ تھا رات کو بچھاکر اسی پر سوجاتے تھے،توتقویٰ حاصل کرواور اللہ عزوجل سے ڈرو اور اپنے پروردگارعزوجل کا فریضہ ادا کرتی رہو اور گھر کے کام کاج کو انجام دیتی رہو اور جب سونے کے واسطے لیٹا کروتو سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ اور الحمدللہ ۳۳ مرتبہ اور اللہ اکبر ۳۴ مرتبہ پڑھ لیا کر ویہ خادم سے زیادہ اچھی چیز ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں اللہ عزوجل سے اور اس کے رسول صلی اللہ