Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
64 - 273
بعدحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیت المال سے کچھ عطا کرنے کا ارادہ فرمایا انھوں نے انکار کردیا اسکے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں باربار اصرار کیا مگر انھوں نے انکار ہی کیا۔
 (صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ ،باب الاستعفاف عن المسألۃ،الحدیث۱۴۷۲، ج۱،ص۴۹۷)
 (۸) حضرت اسما ء رضی اللہ تعالیٰ عنھا بڑی سخی تھیں۔ اول جو کچھ خرچ کرتی تھیں اندازہ سے ناپ تول کرخرچ کرتی تھیں مگر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ باندھ باندھ کر نہ رکھا کرو اور حساب نہ لگایا کرو جتنا بھی قدرت میں ہو خرچ کیا کرو تو پھر خوب خرچ کرنے لگیں۔اپنی بیٹیوں اور گھر کی عورتوں کو نصیحت کیا کرتی تھیں کہ اللہ عزوجل کے راستے میں خرچ کرنے اور صدقہ کرنے میں ضرورت سے زیادہ ہونے اور بچنے کا انتظار نہ کیا کروکہ اگر ضرورت سے زیادتی کا انتظار کرتی رہو گی تو ہونے کا ہی نہیں(کہ ضرورت خود بڑھتی رہتی ہے ) اور اگر صدقہ کرتی رہوگی تو صدقہ میں خرچ کردینے سے نقصان میں نہ رہوگی۔
(الطبقات الکبریٰ،ج۸،ص۱۹۸)
 (۹) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سے فرمایا کہ میں تمھیں اپنا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سب سے زیادہ لاڈلی بیٹی تھیں، قصہ سناؤں! شاگرد نے عرض کیا ضرور،  فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھ سے چکی پیستی تھیں جس کی وجہ سے ہاتھوں میں نشان پڑگئے تھے اور خود پانی کی مشک بھر کر لاتی تھیں جس کی وجہ سے سینہ پر مشک کی رسی کے نشان پڑگئے تھے اور گھر میں جھاڑو وغیرہ خود ہی دیتی تھیں جسکی وجہ سے تمام کپڑے میلے ہو جایاکرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس کچھ غلام باندیاں آئیں میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم بھی جاکر حضور صلی اللہ
Flag Counter