| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
(سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ،باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ...الخ،الحدیث۱۷، ج۱،ص۱۹)
نوٹ: خذف یہ ہے کہ انگوٹھے پر چھوٹی سی کنکری رکھ کر انگلی سے پھینکی جائے یہ بچوں کا ایک بیکاراور اندیشہ ناک کھیل ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نے ارشادِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سن لینے کے بعد بھی پابندی نہ کی جسے صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ برداشت نہ کر سکے اور ترک کلام کی قسم کھالی۔آج مسلمان اپنے حالات پر غور کریں کہ احادیث رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور ارشادات سرور کائنات علیہ الصلوات والتحیات کی پابندی ہم میں کتنی ہے؟
(۷)حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے کچھ طلب کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عطا فرمایا ،پھر کسی موقع پر کچھ مانگا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پھر مرحمت فرمایا ،تیسری دفعہ پھر سوال کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا: کہ اے حکیم !یہ مال سبز باغ ہے ظاہر میں بڑی میٹھی چیز ہے مگر اس کا دستوریہ ہے کہ اگر دل کے استغناء سے ملے تو اس میں برکت ہوتی ہے اور اگر طمع اور لالچ سے حاصل ہو تو اس میں برکت نہیں ہوتی ایسا ہوجاتا ہے(جیسے جوع البقر کی بیماری ہو) کہ ہروقت کھاتے جائے اور پیٹ نہ بھرے۔حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم !آپ کے بعد اب کسی سے کچھ قبول نہیں کروں گا حتی کے دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔اسکے