Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
62 - 273
 علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہم ر کاب تھے اور ہمارے اونٹوں پرچادریں پڑی ہوئی تھیں جن میں سرخ ڈورے تھے ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ سرخی تم پرغالب ہوتی جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا تھا کہ ہم لوگ ایک دم ایسے گھبرا کے اٹھے کہ ہمارے بھاگنے سے اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگنے لگے اور ہم نے فوراََ سب چادریں اونٹوں سے اتارلیں۔
(سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی الحمرۃ،الحدیث۴۰۷۰،ج۴،ص۷۴)
(۵)وائل بن حجر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حاضر خدمت ہوا میرے سر کے بال بہت بڑھے ہوئے تھے میں سامنے آیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''ذباب،ذباب'' میں یہ سمجھا کہ میرے بالوں کو ارشاد فرمایا واپس گیا، اور ان کو کٹوادیا۔ جب دوسرے دن خدمت میں حاضر ہوا تو ارشاد فرمایا :میں نے تجھے نہیں کہا تھا لیکن یہ اچھا کیا۔
(سنن ابی داود،کتاب اللباس،باب فی تطویل الجمۃ،الحدیث۴۱۹۰،ج۴، ص۱۱۲)
(۶) عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا ایک نو عمر بھتیجا خذف سے کھیل رہا تھا انھوں نے دیکھا اور فرمایا برادر زادہ ایسا نہ کروحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس سے فائدہ کچھ نہیں نہ شکا ر ہوسکتا ہے نہ دشمن کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اور اتفاقاً کسی کو لگ جائے تو آنکھ پھوٹ جائے، دانت ٹوٹ جائے ۔بھتیجا کم عمر تھا اس لئے جب چچا کو غافل دیکھا تو پھر کھیلنے لگا۔ انھوں نے دیکھ لیا فرمایا کہ میں تجھے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد سناتا ہوں کہ اس سے انہوں نے منع فرمایا ہے اور تو پھر اس کام کو کرتا ہے خدا عزوجل کی قسم تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ ایک دوسرے قصہ میں اس کے بعد ہے کہ
Flag Counter