(۳)حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک مرتبہ دولت کدے سے باہر تشریف لے جارہے تھے راستے میں ایک قبہ (گنبد دار حجرہ) دیکھا جو اوپر بنا ہوا تھا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے دریافت کیا، یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا:فلاں انصاری نے قبہ بنایا ہے۔ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سن کر خاموش رہے کسی دوسرے وقت وہ انصاری حاضر خدمت ہوئے۔ سلام عرض کیا، حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اعراض فرمایا ،سلام کا جواب بھی نہ دیا انہوں نے اس خیال سے کہ شاید خیال نہ ہوا ہو دوبارہ سلام عرض کیا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے پھر اعراض فرمایا اور جواب نہیں دیا وہ اس کے کیسے متحمل ہوسکتے تھے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے جو وہاں موجود تھے کہا :خدا عزوجل کی قسم! سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تومجھے ناپسند فرمارہے ہیں۔ انھوں نے کہا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم باہر تشریف لے گئے تھے راستہ میں تمہاراقبہ دیکھا تھا اور دریافت فرمایا تھا کہ کس کا ہے ؟
یہ سن کر و ہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً گئے اور اس کو توڑ کر ایسا زمین کے برابر کردیا کہ نام و نشان بھی نہ رہا اور پھر آکر عرض بھی نہیں کیا ۔اتفاقاً حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کا اس جگہ کسی دوسرے موقع پر گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ قبہ وہاں نہیں ہے، دریافت فرمایا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا انصاری نے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اعراض کو، کئی روز ہوئے ذکر کیا تھا ،تو ہم نے کہہ دیا تھا تمھار اقبہ دیکھا ہے انھوں نے آکر اس کو بالکل توڑدیا ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر تعمیر آدمی پر وبال ہے مگر و ہ تعمیر جو سخت ضرورت اور مجبوری کی ہو۔