| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں چاہتا ہوں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ایک ایک قدم کے عوض میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیر کی خاطرایک ایک غلام آزاد کروں چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر تک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جس قدر قدم پڑے اسی قدر غلام حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آزاد کئے۔
(جامع المجزات،ص۲۵۷)
شاہکار تعظیم
غزوہ خیبر سے واپسی میں منزل صہبا پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نماز عصر پڑھ کر مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمایا: مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے نماز عصر نہ پڑھی تھی، آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے مگر اس خیال سے کہ زانو سرکاؤں تو شاید خواب مبارک میں خلل آئے زانو نہ ہٹایا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ جب چشم اقدس کھلی مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی نماز کا حال عرض کیا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعا کی ،ڈوبا ہواسورج پلٹ آیا، مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے نمازعصر ادا کی،پھر ڈوب گیا اس سے ثابت ہوا کہ افضل العبادات نماز،وہ بھی نماز وسطیٰ یعنی عصرمولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نیند پر قربان کر دی کہ عبادتیں بھی ہمیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کے صدقہ میں ملیں۔
(الشفاء،ج۱،ص۵۹۴۔شواہدالنبوۃ،رکن سادس،ص۲۲۰)
بوقت ہجرت غارثور میں پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ گئے اپنے کپڑے پھاڑپھاڑ کر اس کے سوراخ بند کئے ایک سوراخ باقی رہ گیا اس میں پاؤں کا انگو ٹھا رکھ دیا،پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بلایا تشریف لے گئے اور انکے زانو پر سر اقدس