| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
رکھ کر آرام فرمایا اس غار میں ایک سانپ مشتاقِ زیارت رہتا تھا، اس نے اپنا سر صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے پاؤں پر ملا انھوں نے اس خیال سے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نیند میں فرق نہ آئے پاؤں نہ ہٹایا۔ آخر اس نے پاؤں میں کاٹ لیا جب صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے آنسو چہرہ انور پر گرے چشم مبارک کھلی ،عرض حال کیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے لعاب دہن لگادیافوراَ َ آرام ہوگیا۔ ہر سال وہ زہر عود کرتا، بارہ برس بعد اسی سے شہادت پائی۔ صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے جان بھی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نیند پر قربان کی۔
(مدارج النبوت،ج۲،ص۵۸)
ان ہی نکات کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنے ان اشعار میں بیان فرمایا ہے:
مولا علی نے واری تری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلی خطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جاں اس پہ دے چکے
اور حفظ جاں توجان فروض غررکی ہے
ہاں تونے ان کو جان انھیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کرچکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہو ا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
(حدائق بخشش)