میں اس وقت تک طواف نہیں کرسکتا جب تک کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم طواف نہیں کرتے۔
(الشفاء ،الباب الثالث،ج۲،ص۷۰)
ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ضیافت کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم! میرے غریب خانہ پر اپنے دوستوں سمیت تشریف لائیں اور ماحضر تناول فرمائیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ دعوت قبول فرمالی اور وقت پر مع صحابہ کرام علیہم الرضوان کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے چلے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیچھے چلنے لگے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ایک ایک قدم مبارک جو ان کے گھر کی طرف چلتے ہوئے زمین پر پڑرہا تھا گننے لگے، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا:اے عثمان! یہ میرے قدم کیوں گن رہے ہو؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: