Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
52 - 273
    ایک روز ام مسطح سے انھیں یہ خبر معلوم ہوئی اس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مرض اور بڑھ گیا اور اس صدمہ میں اس قدرروئیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ ایک لمحہ کیلئے نیند آتی تھی۔ اس حال میں سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی طہارت میں آیات قرآنی نازل ہوئیں جن سے آپ کاشرف و مرتبہ بڑھایا گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طہارت و فضیلت ازحد بیان ہوئی۔

    سیدِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے برسرِمنبر بقسم فرمادیا تھاکہ مجھے اپنے اہل کی پاکی و خوبی بالیقین معلوم ہے، تو جس شخص نے ان کے حق میں بد گوئی کی ہے، اس کی طرف سے میرے پاس کون معذرت پیش کرسکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: منافقین بالیقین جھوٹے ہیں،ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا بالیقین پاک ہیں، اللہ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جسم پاک کو مکھی کے بیٹھنے سے محفوظ رکھا کہ وہ نجاستوں پر بیٹھتی ہے، کیسے ہوسکتاہے کہ وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بدعورت کی صحبت سے محفوظ نہ رکھے۔

    حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی طرح آپ رضی اللہ عنہا کی طہارت بیان کی اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا سایہ زمین پر نہ پڑنے دیا، تاکہ ا س سایہ پر کسی کا قدم نہ پڑے، تو جو پروردگارعزوجل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سایہ کو محفوظ رکھتا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اہل کو محفوظ نہ فرمائے۔

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کیا: کہ ایک جوں کا خون لگنے سے پروردگارِ عالم عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نعلین اتاردینے کا حکم دیا، جو پروردگارعزوجل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نعلین کی اتنی سی بات روا نہ فرمائے، ممکن نہیں کہ وہ آپ صلی