۵ ھ میں غزوہ بنی المصطلق سے واپسی کے وقت قافلہ قریب مدینہ ایک پڑاؤ پر ٹھہرا تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ضرورت کے لئے کسی گوشہ میں تشریف لے گئیں، وہاں آپ کا ہار ٹوٹ گیا اسکی تلاش میں مشغول ہوگئیں ادھر قافلہ نے کوچ کیااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا محمل شریف اونٹ پر کس دیا اور انھیں یہی خیال رہا کہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس میں ہیں اور قافلہ چل دیا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آکر قافلہ کی جگہ بیٹھ گئیں اور آپ نے خیال کیا کہ میری تلاش میں قافلہ ضرور واپس ہوگا۔
قافلے کے پیچھے گری پڑی چیز اٹھانے کے لئے ایک صاحب رہا کرتے تھے۔ اس موقع پر حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کام پر تھے جب وہ آئے اور انھوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا تو بلند آواز سے
'' اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ''
پکارا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کپڑے سے پردہ کرلیا انھوں نے اپنی اونٹنی بٹھائی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس پر سوارہو کر لشکر میں پہنچیں ۔ منافقین سیاہ باطن نے اوہامِ فاسدہ پھیلائے اور آپ رضی اللہ عنہا کی شان میں بدگوئی شروع کی بعض مسلمان بھی اُن کے فریب میں آگئے اور انکی زبان سے بھی کوئی کلمۂ بے جا سرزد ہوا۔ ام المومنین رضی اللہ عنھا بیمار ہوگئیں اور ایک ماہ تک بیمار رہیں، اس زمانہ میں انھیں اطلاع نہ ہوئی کہ منافقین ان کی نسبت کیا بک رہے ہیں۔