| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
اگر اجلہ صحا بہ کرام علیھم الرضوان کی تعظیم اور اس بابرکت بارگاہ کے احترام میں مبالغہ کرنے اور ہر باب میں آداب کی رعایت کرنے کی روایات کا احاطہ کیاجائے تو کلام طویل ہوجائیگا ۔تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان اس ذات کریم کو بہترین القاب ، کمالِ تواضع او رمرتبہ و مقام کی انتہائی رعایت سے خطاب کرتے تھے اور ابتدا ء ِکلام میں صلوٰۃ کے بعد
'' فَدَیْتُکَ بِاَبِیْ وَ اُمِّیْ''
میرے والدین بھی آپ پر فدا ہوں،یا
'' بِنَفْسِیْ اَنْتَ یَارَسُوْل! ''
میری جان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نثار ہے، جیسے کلمات استعمال کرتے تھے اور فیض صحبت کی فراوانی کے باوجود ،محبت کی شدت کے تقاضے کی بنا پر، تعظیم و توقیر میں کوتا ہی اور تقصیر کے مرتکب نہیں ہوتے تھے بلکہ ہمیشہ حضور سید الانام صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و اجلال میں اضافہ کرتے تھے ۔
تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تعظیم ِمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم
اسی طرح تابعین اور تبع تابعین بھی صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعظیم آثار کے معاملہ میں انھیں کے نقش قدم پر تھے۔ حضرت مصعب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکر کیا جاتا تو ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ان کی پشت جھک جاتی یہاں تک کہ یہ امران کے ہمنشینوں پر گراں گزرتا۔
ایک دن حاضرین نے امام مالک رضی اللہ عنہ سے ان کی اس کیفیت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا:جوکچھ میں نے دیکھاہے، تم دیکھتے تو مجھ پر اعتراض نہ کرتے ۔ میں نے قاریوں کے سردار حضرت محمد بن منکدر کو دیکھا کہ میں نے جب بھی