| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ نہ توکوئی محبوب تھا اور نہ میری نگاہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے زیادہ کوئی محترم تھا اس کے باوجود آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے احترام کے سبب میں آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جمال کی زیارت نہ کرسکتا تھا۔ اگر مجھ سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صفت پوچھی جائے تو میں بیان نہیں کرسکوں گا کیونکہ میں آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جمال سے بہرہ نہیں ہوسکتا تھا۔''
(الشفاء ،الباب الثالث،ج۲،ص۶۸)
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں اس حال میں حاضر ہو ا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے گرد اس طرح بیٹھے ہوئے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔
(الشفاء،الباب الثالث،ج۲،ص۶۹)
(یعنی وہ اپنے سروں کو حرکت نہیں دے رہے تھے کیونکہ پرندہ ا س جگہ بیٹھتا ہے جو ساکن ہو۔)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع ملی کہ کابس بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے (صورۃً)مشابہ ہیں جب حضرت کابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کے دروازے سے داخل ہوئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے تخت سے اٹھ کھڑے ہوئے ان کا استقبال کیا، ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور انھیں مِرغَب( ایک مقام) عنایت فرمایا( یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ) ان کی صورت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ملتی جلتی تھی۔(الشفاء،الباب الثالث،ج۲،ص۸۸)