| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
واٰلہٖ وسلم جب بھی وضو فرماتے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے بے حد کوشش کرتے حتی کہ قریب تھا کہ وضو کا پانی نہ ملنے کے سبب لڑ پڑيں۔ انہوں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم دہن مبارک یا بینی مبارک کا پا نی ڈالتے توصحابہ کرام علیہم الرضوان اسے ہاتھوں میں لیتے، اپنے چہر ے اور جسم پرملتے اور آبروپاتے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کوئی بال جسد اطہر سے جدا نہیں ہوتا تھا مگر اس کے حصول کے لئے جلدی کرتے، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم انھیں کوئی حکم دیتے تو فوراََ تعمیل کرتے اور جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم گفتگو فرماتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے خاموش رہتے اور ازراہ تعظیم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے۔
(الشفاء ،الباب الثالث،ج۲،ص۶۹)
جب عروہ بن مسعود قریش کے پاس واپس گئے تو انھیں کہا اے قوم قریش!میں کسریٰ ،قیصر اور نجاشی یعنی شا ہ فارس، شاہ روم اور شاہ حبشہ کے پاس ان کی حکومت میں گیا ہوں، بخدا میں نے ہر گز کوئی بادشاہ اپنی قوم میں اتنامحترم نہیں دیکھاجس قدر محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )اپنے اصحاب میں معزز ہیں۔ ایک روایت میں ہے ''میں نے کبھی ایسا بادشاہ نہیں دیکھاکہ اس کے رفیق اس کی اس قدر تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اصحاب علیہم الرضوان آپ کی تعظیم کرتے ہیں۔ تحقیق کہ میں نے ایسی قوم دیکھی ہے جو کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نہیں چھوڑے گی اور ہمیشہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم کرتی رہے گی۔'' حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں چاہتا تھا کہ کسی امر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سوال کروں لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہیبت کے سبب دو سال تک مؤخر کرتارہا۔''
(الشفاء ،الباب الثالث،ج۲،ص۷۱)