ترجمہ کنزالایمان:بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔(پ26،الحجرات:4)
بے شک بعد از وصال حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عزت ایسی ہے جیسی آپ کی حیات ظاہری میں تھی۔ (یہ سن کر) ابو جعفر نے فروتنی کا اظہار کیا اور کہا اے ابو عبداللہ (امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کنیت) قبلہ رو ہوکر دعا کروں یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف رخ کروں؟ امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے کیوں رخ پھیرتا ہے حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم قیامت کے دن بارگاہ الٰہی عزوجل میں تیرے اور تیرے جدامجد آدم علیہ السلام کے وسیلہ ہیں، تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف رخ کر اور شفاعت کی درخواست کر، اللہ تعالیٰ تیرے لئے شفاعت قبول فرمائیگا۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اورتعظیم رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
عروہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جب قریش نے انھیں صلح حدیبیہ کے سال ، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیجا، انھوں نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے پنا ہ تعظیم دیکھی، انھوں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ