اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ الآیۃ
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرَاتِ الآیۃ
وان حرمتہ میتاکحرمتہ حیا فاستکان لھا ابو جعفر وقال یا اباعبداللہ استقبل القبلۃ وادعو ام استقبل رسول اللہ؟ فقال ولم تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک آدم علیہ السلام الی اللہ تعالی یوم القیامۃ بل استقبلہ واستشفع بہ فیشفیعہ اللہ عزوجل. (الشفاء ،الباب الثالث،ج۲،ص۷۲)
''اے مسلمانوں کے امیر! اس مسجد میں آواز بلند نہ کر کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت کو ادب سکھایا اور فرمایا:
لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ
ترجمہ کنزالایمان:اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے ۔(پ26،الحجرات:2)
اور ایک جماعت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: