| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
بعضکم بعضا ولکن عظموہ ووقروہ ونادوہ باشرف مایحب ان ینادی بہ یارسول اللہ! یا نبی اللہ. (الشفاء،الباب الثالث،ج۲،ص۶۵)
''یعنی کلام میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سبقت نہ کرو اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ہم کلام ہوتے ہوئے سختی سے بات نہ کرو اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام لیکر نہ پکار و جس طرح تم ایک دوسرے کوپکارتے ہو بلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیرکرواور اشرف ترین اوصاف سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نداء کر و جن سے ند اء کئے جانے کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پسند فرمائیں اور یوں کہو یارسول اللہ! یانبی اللہ !۔''(عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )
نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے ادبی کفر ہے
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لیے آواز بلند کرنے اور تعظیم و توقیر کے بغیر بلانے سے منع فرمایا اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اس بے ادبی کورو انہیں رکھا اور اس عظیم جرم کے مرتکب کو اعمال کے برباد ہوجانے کی وعید سنائی، معلوم ہوا کہ بارگاہ رسالت کی بے ادبی اعمال کے ضائع ہو جانے کا سبب ہے اور تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کفر کے سواکوئی گناہ اعمال کے ضائع ہونے کا سبب نہیں ہے اور جو چیز اعمال کے ضیاع کا سبب ہو،کفر ہے ۔
اب غور کرنا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے ادبی اعمال کے ضائع ہو جانے کا سبب ہے اور جو ضیاع اعمال کاسبب ہو کفرہے ، نتیجہ یہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے ادبی کفر ہے۔ یہ بھی پیش نظرر ہے کہ حیات ظاہری میں اور وصال کے