'' نبی اکر م صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اس طرح نہ پکاروجیسے تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ یوں نہ کہو یا محمد یاابا القاسم! بلکہ عرض کرویا رسول اللہ، یا نبی اللہ''
(یعنی نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نام یا کنیت سے نہ پکارو بلکہ اوصاف اور القاب سے یاد کرو)
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾
ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو ! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہوکہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائيں اور تمہیں خبرنہ ہو۔(پ26،الحجرات:2)
ابو محمد مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ای لاتسابقوہ بالکلام ولاتغلظوالہ بالخطاب ولاتنادوہ باسمہ نداء