Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
43 - 273
   نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کے بغیر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لانا متصورنہیں ہے، مومن کیلئے ضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنی جان ، باپ ، بیٹے اور مخلوق سے زیادہ محبوب رکھے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ
ترجمہ کنزالایمان:یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ (پ21،الاحزاب:6)
اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی ایک ہر گز (کامل) ایماندار نہیں ہوگا جب تک کہ میں اسے اسکی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔''
(المسند لامام احمد بن حنبل،حدیث عبداللہ بن ربیعۃ السلمی، الحدیث۱۸۹۸۳، ج۷،ص۹)
یہ بھی فرمایا: ''تم میں سے کوئی (کامل)ایماندار نہیں ہوگا جب تک میں اسے باپ، بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔''
(صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حب الرسول من الایمان، الحدیث۱۵،ج۱،ص۱۷)
علاماتِ محبت
    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت کی بہت سی علامتیں اور آثار ہیں جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت کے امتحان کے لئے کسوٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان میں سے ایک علامت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا بکثرت ذکر کرنا ہے۔حدیث شریف میں ہے:
 ''مَنْ اَحَبَّ شَیْأً اَکْثَرَ ذِکْرَہُ''
جوشخص کسی سے محبت رکھتا ہے، ا س کا ذکر بکثرت کرتا ہے۔
    (کنزالعمال،کتاب الاذکار،الباب الاول،الحدیث۱۸۲۵،ج۱،ص۲۱۷)
تعظیم
     کثرت ذکر کے ساتھ ساتھ ایک علامت یہ بھی ہے کہ تعظیم و تکریم کا کوئی دقیقہ
Flag Counter