یَا رَسُوْلَ اللہ ، یَا نَبِیَّ اللہ، یَا خَیْرَخَلْقِ اللہ
وغیرہ صفاتی ناموں سے پکار سکتے ہو۔ اللہ عزو جل اہل ایمان کو ایسا حکم کیوں نہ دیتاکہ اس نے خود اپنے پورے کلام عظیم میں کہیں بھی یا محمدکہہ کر نہیں پکارا ہے جب کہ دوسرے انبیائے کرام علیٰ نبیناوعلیھم الصلوۃوالسلام کو ان کے ذاتی ناموں سے خطاب فرمایاہے۔
صحابہ کرام علیھم الرضوان کے پیش نظر رب العالمین عزوجل کے مذکورہ بالاارشادات وفرامین تھے۔ انہوں نے ان احکام کو خوب سمجھ لیاتھا اور ادھر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شخصیت کو اپنے سر کی آنکھوں سے اور بہت قریب سے دیکھا تھا، اس لئے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظمت و جلالت فطری طور پر ان کے قلوب و اذہان میں رچ بس گئی تھی اس لئے انھوں نے عقیدت و محبت اور احترام و ادب کے ایسے ایسے نمونے پیش کئے جن کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپ اس کتاب میں اس قسم کے واقعات پڑھیں گے جن سے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں صحابہ