Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
39 - 273
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیۡبُوۡا لِلہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحْیِیۡکُمْ ۚ
ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو اللہ اوررسول کے بلانے پر حاضر ہو جب رسول تمہیں اُس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔(پ9،الانفال:24)
    اس قسم کا واقعہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی مروی ہے۔ یہ ہے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بلانے کی عظمت کہ نماز جیسا عظیم فریضہ بھی ترک کرکے تعمیل حکم کو پہنچنا فرض قراردیاگیا۔
    آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اس طرح نہ پکارنا جس طرح باہم ایک دوسرے کو نام لیکر پکارتے ہو۔ ان کو
یَا رَسُوْلَ اللہ ، یَا نَبِیَّ اللہ، یَا خَیْرَخَلْقِ اللہ
وغیرہ صفاتی ناموں سے پکار سکتے ہو۔ اللہ عزو جل اہل ایمان کو ایسا حکم کیوں نہ دیتاکہ اس نے خود اپنے پورے کلام عظیم میں کہیں بھی یا محمدکہہ کر نہیں پکارا ہے جب کہ دوسرے انبیائے کرام علیٰ نبیناوعلیھم الصلوۃوالسلام کو ان کے ذاتی ناموں سے خطاب فرمایاہے۔
صحابہ کرام علیھم الرضوان کے پیش نظر رب العالمین عزوجل کے مذکورہ بالاارشادات وفرامین تھے۔ انہوں نے ان احکام کو خوب سمجھ لیاتھا اور ادھر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شخصیت کو اپنے سر کی آنکھوں سے اور بہت قریب سے دیکھا تھا، اس لئے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظمت و جلالت فطری طور پر ان کے قلوب و اذہان میں رچ بس گئی تھی اس لئے انھوں نے عقیدت و محبت اور احترام و ادب کے ایسے ایسے نمونے پیش کئے جن کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپ اس کتاب میں اس قسم کے واقعات پڑھیں گے جن سے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں صحابہ
Flag Counter