Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
38 - 273
علیہ واٰلہٖ وسلم) کہہ کہ پکارنا شروع کردیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم باہرتشریف لائے۔ مگر خدائے تعالیٰ نے اپنے محبوب کی ایسی بے ادبی گوارا نہ فرمائی اور ایسا سخت حکم نازل فرمایا کہ ایسا کرنے والے بے عقل ہیں اور پھر ادب کی تعلیم دی کہ جب لوگ دردولت پر پہنچیں تو  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کوآواز نہ دیں ، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے باہر تشریف لانے کا انتظار کریں۔ رب تعالیٰ ایک مقام پر اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ادب اس طرح ارشاد فرمارہا ہے:
لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان:رسول کے پکارنے کوآپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کوپکارتا ہے۔(پ18،النور:63)
    اس آیت کریمہ کے دوپہلو ہیں ایک تویہ کہ جب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم تم کو بلائیں تو ان کے بلانے کو کوئی معمولی بلانا نہ سمجھ بیٹھنا بلکہ میرے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بلانے کی شان تو یہ ہے کہ اگر وہ کسی کو عین نماز میں بھی آوازدیں فوراََ نمازہی کی حالت میں حاضر ہونا فرض ہے جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت سعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے کہا میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے آواز دی میں چونکہ نماز پڑھ رہا تھا اس لئے جواب نہ دیا پھرنماز سے فارغ ہو کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا یارسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا(اس لئے حاضر نہ ہوسکا) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نہیں سنا ہے !
Flag Counter