صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے تو قسم کھالی تھی کہ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس طرح باتیں کروں گا، جیسے سر گوشی کی جاتی ہے۔ ان حضرات کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان کو سراہا گیا جو با ادب ہیں اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں آوازیں پست رکھتے ہیں۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جناب پاک میں کس قدر باادب رہتے تھے۔ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں:جس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم گفتگو شروع فرماتے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اصحاب اس طرح سرجھکا لیتے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔
رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یا محمد یا محمدکہہ کر پکارنے والوں کی رب تعالیٰ مذمت کرتے ہوئے فرماتاہے: