Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
37 - 273
صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے تو قسم کھالی تھی کہ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس طرح باتیں کروں گا، جیسے سر گوشی کی جاتی ہے۔ ان حضرات کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان کو سراہا گیا جو با ادب ہیں اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں آوازیں پست رکھتے ہیں۔ 

     صحابہ کرام علیہم الرضوان رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جناب پاک میں کس قدر باادب رہتے تھے۔ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں:جس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم گفتگو شروع فرماتے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اصحاب اس طرح سرجھکا لیتے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔

    رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یا محمد یا محمدکہہ کر پکارنے والوں کی رب تعالیٰ مذمت کرتے ہوئے فرماتاہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴﴾وَلَوْ اَنَّہُمْ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَیۡہِمْ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ وَ اللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾
ترجمہ کنزالایمان:بے شک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔( پ26،الحجرات:5)
قبیلہ بنی تمیم کا ایک وفدعین دوپہر کے وقت رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ملنے پہنچا ،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مکان شریف کے اند ر آرام فرمارہے تھے، انھوں نے حجروں کے باہر سے یامحمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم) یا محمد(صلی اللہ تعالیٰ
Flag Counter