Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
36 - 273
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز تھے اس آیت کے بعد انہیں حکم ہوا کہ اس بارگاہ میں اپنی آواز پست کریں وہ انتہائی ادب اور خوف کی وجہ سے خانہ نشین ہوگئے، بارگاہ نبوی میں جب حاضر نہ ہوئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کی غیر حاضری کا سبب حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، یہ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کے پڑوسی تھے انہوں نے جاکر حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو کہامیں تو دو زخی ہوگیا میری ہی آواز رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے سب سے زیادہ بلند ہوتی تھی۔حضرت سعد نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول نقل کردیا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا :نہیں، ان سے کہہ دو وہ جنتی ہیں۔ 

     اللہ عزوجل ان لوگوں کو سراہ رہا ہے جو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنۡدَ رَسُوْلِ اللہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۳﴾
ترجمہ کنزالایمان:بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیز گاری کے لیے پرکھ لیا ہے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔(پ26،الحجرات:3)
    آیت کریمہ
'' لَا تَرْفَعُوْآ اَصْوَاتَکُمْ''
کے نازل ہونے کے بعد حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام علیہم الرضوان اس قدر دھیمی آواز سے باتیں کرتے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دوبارہ دریافت کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ حضرت
Flag Counter