| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
عزوجل کی عبادت میں کی تھی روزہ رکھنے یا قربانی کرنے میں کی تھی ، ایسا کرنا بظاہر کوئی جرم نہیں معلوم ہوتا، مگر آسمان سے تنبیہ اتر رہی ہے کہ اے ایمان والو! جلیل القدر عبادتوں میں بھی تم میرے نبی سے آگے نہ بڑھنا، اور اس معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا یقینا اللہ عزوجل تمہاری ہر نقل و حرکت اور نشست و برخاست کو سنتا جانتا ہے۔اسی سورہ میں آگے اللہ عزوجل اس طرح اپنے نبی کی تعظیم کی تعلیم دے رہا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾
ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو ! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائيں اور تمہیں خبرنہ ہو۔(پ26،الحجرات:2)
اس آیت کریمہ میں بھی اللہ عزوجل نے اہل ایمان کو اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ایک عظیم ادب سکھایا ہے کہ تم میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے بولنے میں بھی با ادب رہو، ان کے حضور ہلکی آواز میں باتیں کرو، اگر تم نے زور زور سے چیخ کر ان کے حضور بات کی تو تمہارے عمل رائیگاں کردیئے جائیں گے۔ غور کریں بڑے سے بڑے جرم کا ارتکاب عنداللہ معاف ہوسکتا ہے مگر رب تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے ادبی اور گستاخی معاف نہ فرمائے گا ۔
ادب گاہے ست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کر دہ می آید جنید وبا یزید ایں جا