بعض صحابہ کرام علیھم الرضوان نے بقرہ عید سے پہلے ہی قربانی کرلی تھی، یا کچھ حضرات صحابہ کرام علیھم الرضوان نے رمضان المبارک کے روزے ایک دن پہلے ہی سے شروع کردیئے ان کو ہدایت کی گئی کہ ایسا نہ کریں، رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں، ایسا کرنا خطرناک ہے ۔آیت پر غور کرنے سے ایک بات یہ بھی نکلتی ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بے ادبی اللہ عزوجل کی بے ادبی ہے، جن لوگوں نے پیش قدمی کی تھی انہوں نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر کی تھی، لیکن حکم اترا تو یہ کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر پیش قدمی نہ کرو۔دوسرے یہ کہ کسی قول، کسی فعل میں پیش قدمی منع ہے کیونکہ آیت میں یہ حکم بلا قید ہے ۔اسی طرح جب رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کسی جگہ کے لئے تشریف لے جائیں تو بغیر کسی خاص مصلحت کے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے آگے چلنا بھی منع ہے۔اگر کوئی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مجلس میں سوال کرے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پہلے کسی اور کو اس کا جواب بھی نہ دینا چاہے، اسی طرح جب کھانا حاضر ہوتو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پہلے کھانا شروع نہ کیا جائے۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ جن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم نے پیش قدمی کی تھی اللہ