Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
33 - 273
 آپ نے جواب دیا تم نے یہ میرے بارے میں درست اندازہ نہ لگایا، اس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر میں  مکہ میں ایک سال تک بھی پڑا رہتا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم حدیبیہ میں ہوتے تب بھی میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بغیر طواف نہ کرتا۔قریش نے مجھ سے طواف کرنے کیلئے کہا تھا مگر میں نے انکار کردیا۔
(مدارج النبوت،ذکر سال ششم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم،فرضیت حج،ج۲، ص۲۰۹)
    حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اندر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و ادب کا یہ پاس قابل ملاحظہ ہے کہ کفار آپ سے پیشکش کررہے ہیں کہ طواف تنہاکر لو مگر آپ جواب دیتے ہیں مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا  کہ میں اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بغیر طواف کرلوں۔ ادھر مسلمانوں کا یہ تاثر کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش نصیب ہیں کہ ان کو طواف کعبہ نصیب ہوگیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے سن کر فرمایا عثمان ہمارے بغیر ایسا نہیں کرسکتے۔ گویا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بھی اپنے فدائی پرپورا اعتماد تھا۔ آقا ہو تو ایسا اور غلام ہو تو ایسا۔
    رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اس قسم کی تعظیم اور اس طرح کا ادب صحابہ کرام علیھم الرضوان کااپنا کوئی ایجاد کردہ یا اختراعی نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم اور مجلس کے آداب خود بیان فرمائے ہیں۔ دنیا کا شہنشاہ آتا ہے تو اپنے دربار کے آداب خود بناتا ہے اور جب جاتا ہے تو اپنے نظام آداب کو بھی لے جاتا ہے ۔مگر شہنشاہ اسلام حضو راقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دربار کا عالم ہی نرالا ہے، جب آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف لاتے ہیں تو خالق کائنات عزوجل آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دربار کا ادب نازل فرماتا ہے اور کسی خاص وقت تک
Flag Counter