کے ارادے سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم حدیبیہ پہنچے تو قریش پر خوف و ہراس طاری ہوا اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا اور ان کو یہ ہدایات دیں کہ تم قریش کویہ بتانا کہ ہم جنگ کے لئے نہیں عمرہ کی ادائیگی کیلئے آئے ہیں اور ان کو اسلام کی دعوت بھی دینا اور وہ مسلمان مردوعورت جو مکہ میں ہیں انکو فتح کی خوشخبری سنانا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ان سے حضرت ابان بن سعد اموی ملے جو ابھی ایمان نہ لائے تھے انھوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی پناہ و ضمانت دی اور اپنے گھوڑے پر سوار کرکے ان کو مکہ مکرمہ لائے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لوگوں تک رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا پیغام پہنچایا ۔ ادھر حدیبیہ میں صحابہ علیہم الرضوان کہنے لگے کہ عثمان خوش نصیب ہیں کہ ان کو طواف بیت اللہ نصیب ہوچکا ہوگا۔ یہ سن کر رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ میرے بغیر طواف نہ کریں گے۔ اس دوران یہ افواہ اڑ گئی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ میں قتل کر دیئے گئے اسلئے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بیعت لی، جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ چونکہ اس وقت مکہ میں تھے اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پررکھ کر ان کو بیعت کے شرف میں داخل کیا۔ اس طرح رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کاہاتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرارپایا۔