(۲)ہجرت کے موقع پر یار غار حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جو جاں نثاری کی مثال قائم کی ہے وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اور صدیق اکبررضی اللہ عنہ دونوں غار کے قریب پہنچے تو پہلے صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ اترے صفائی کی ، غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا، ایک سوراخ کو بند کرنے کے لئے کوئی چیز نہ ملی تو آپ نے اپنے پاؤں کا انگوٹھا ڈال کر اسکو بند کیا، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بلایا اور حضور تشریف لے گئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمانے لگے، اتنے میں سانپ نے صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے پاؤں کو کاٹ لیا، مگر صدیق اکبر، شدتِ الم کے باوجود محض اس خیال سے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آرام میں خلل نہ واقع ہو، بدستور ساکن وصامت رہے، آخر جب پیمانہ صبر لبریز ہوگیا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، جب آنسو کے قطرے چہرہ اقدس پر گرے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم بیدار ہوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واقعہ عرض کیا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ڈسے ہوئے حصے پر اپنا لعاب دہن لگادیا فوراً آرام مل گیا۔ایک روایت میں ہے کہ سانپ کا یہ زہر ہر سال عود کرتا بارہ سال تک حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس میں مبتلا رہے پھر آخر اس زہر کے اثر سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔