Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
30 - 273
جب وہ گفتگو فرماتے ہیں تو وہ لوگ خاموش اور پرسکون رہتے ہیں اور تعظیم و توقیر میں ان کی طرف نظر بھر کر دیکھتے تک نہیں''۔
 (السیرۃ النبویۃلابن ھشام،ج۳،ص۲۶۸)
یہ تھا صحابہ کرام علیھم الرضوان کا انداز تعظیم و توقیر کا اجمالی خاکہ جسے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ایک بیگانے نے پیش کیا تھا، خود صحابہ کرام علیھم الرضوان نے واقعات کی دنیا میں تعظیم و توقیر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی کیسی کیسی مثالیں پیش کی ہیں انہیں تو  آپ اصل کتاب میں ملاحظہ کریں گے یہاں پر بس بعض مثالوں پر اکتفا کیا جائیگا۔
 (۱)غزوہ خیبر کی واپسی میں مقام صہبا پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نما ز عصر پڑھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمایا، حضرت علی نے نماز عصر نہ پڑھی تھی اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اس خیال سے کہ زانو سرکا تا ہوں تو مبادا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے خواب مبارک میں خلل آجائے ، زانو نہ ہٹایا، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا جب چشم مبارک کھلی تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی نماز کا حال عرض کیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دعا فرمائی آفتاب پلٹ آیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نماز عصر ادا کی پھر سورج ڈوب گیا۔
     (الشفاء،ج۱،ص۵۹۴،شواہدالنبوۃ، رکن سادس،ص۲۲۰)
    تعظیمِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خاطر افضل العبادات نماز اور وہ بھی صلوۃ وسطی (نماز عصر) مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے قربان کردی چشم فلک نے ایسا منظر کبھی نہ دیکھا ہوگا رب تعالیٰ کے ایک بندہ کی درخواست پر اس کے ایک فدائی کے لئے سورج کو پلٹایا گیا ہو، اور ایک فدائی نے محض تعظیم و توقیر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیش نظر اتنی
Flag Counter