| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَعَزَّرُوۡہُ وَنَصَرُوۡہُ وَاتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾
ترجمہ کنزالایمان: تووہ جواس پر ایمان لائيں اوراس کی تعظیم کریں اوراسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جواس کے ساتھ اُتراوہی بامراد ہوئے ۔ـ(پ9،الاعراف: 157)
اس آیت کریمہ میں بھی رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و نصرت کرنے والوں کو کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے۔
یہ ارشادات ربانی صحابہ کرام علیھم الرضوان کے پیش نظر تھے، اس لئے انہوں نے اپنے سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ایسی تعظیم کی کہ دنیا کے کسی شہنشاہ کی بھی اس طرح تعظیم نہ کی جاسکی۔ صحابہ کرام علیھم الرضوان کی تعظیم و توقیر کا حال دیکھ کر صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود نے جو ابھی ایمان نہ لائے تھے،یہ تأثر پیش کیا تھا،گویا یہ اپنے کا نہیں غیر کا تاثر ہے۔ آپ نے کہا:
'' اے لوگو! خدا کی قسم میں بادشاہوں کے درباروں میں بھی پہنچا ہوں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کی ڈیوڑھیوں پر بھی حاضری دے چکا ہوں۔ خدا کی قسم کسی بادشاہ کی اتنی تعظیم ہوتے نہیں دیکھی، جتنی تعظیم محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم) کی انکے اصحاب علیھم الرضوان کرتے ہیں۔ جب کبھی بھی ان کے دہن اقدس سے لعاب مبارک نکلا وہ کسی نہ کسی شیدائی کے ہاتھ میں پڑا جسے اس نے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیا، اور جب وہ اپنے اصحاب کو کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ اس کی تعمیل میں دوڑ پڑتے ہیں، اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو وضو کے پانی کے لئے ایک دوسرے پر پیش قدمی کرتے ہيں ، اور