آپ غور کریں اس آیت میں پہلے ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس کے معاً بعد رسول معظم و مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا گیا ہے اور پھر اللہ عزوجل نے اپنی تسبیح کا حکم ارشادفرمایا ہے۔رب تعالیٰ نے اپنی تسبیح پر اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم و توقیر کو مقدم کرکے تعظیم حبیب کی اہمیت و عظمت میں کس قدر اضافہ کردیا ہے۔ گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو شاہد مبشر اور نذیر بناکر اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر ایمان لائیں، اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم کریں اور پھر رب عزوجل کی تسبیح کریں۔
ایک مقام پر قرآن حکیم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم کرنے والوں کی کامرانی کا اس طرح اعلان کررہا ہے: