ترجمہ:(۱)اس شام ہم پر بڑی مصیبت آئی جب کہا گیا کہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم وفات پاگئے۔
(۲)وحی و تنزیل جسے جبریل علیہ السلام صبح و شام لاتے تھے ہم اس سے محروم ہوگئے۔
(۳)وہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم خدا عزوجل کی وحی اور اپنے اقوال کے ذریعے ہمارے شکوک دور فرماتے تھے۔
(۴)اور ہماری رہبری کرتے تھے تو ہمیں اپنے اوپر گمراہی کا خوف نہ ہوتا جب کہ خود رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہمارے رہبر و رہنما ہیں۔
(۵) اے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاروئیں تو معذور ہیں اور نہ روئیں تو یہ بھی بہتر راہ ہے۔
(۶)آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے والد گرامی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر ہر قبر کی سردار ہے اور اس میں تمام لوگوں کے سردار رسول باوقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آرام فرماہیں۔