| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
کی شفاعت سے محروم ہوا اسے قسمت نے ذلیل ورسوا کردیا۔ (۵)اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو جو بھلائی دی اسے قائم رکھے جیسے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوا اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی مددکرے جیسے ان کی مدد ہوئی۔
حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نبئت ان رسول اللہ اوعدنی والعفو عند رسول اللہ مأمول
فقد اتیت رسول اللہ معتذرا والعذر عند رسول اللہ مقبول
ان الرسول لنور یستضاء بہ مھند من سیوف اللہ مسلول
(السیرۃ البنویۃلابن ہشام،امرکعب بن زہیر،ج۴،ص۴۳۳،۴۳۵ )ترجمہ:(۱)مجھے خبر دی گئی کہ رسول خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے میرے قتل کی وعید فرمائی ہے۔ اور رسول خداعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے یہاں تو (مجھے) عفوو درگزر کی ہی امید ہے۔ (۲)تو میں رسول خداعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے یہاں معذرت کے ساتھ حاضر ہوگیا ہوں اور معذرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ (۳)بیشک رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایسے نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ خدا عزوجل کی تلواروں میں سے ایک بے نیام ہندی تلوار ہیں۔
حضرت عباس بن مرداس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
یا خاتم النبآء انک مرسل بالحق کل ھدی السبیل ھدا کا ان الالہ بنی علیک محبۃ فی خلقہ و محمدا سما کا (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،غزوۃ حنین فی سنۃ ثمان بعد الفتح،شعر اخر لعباس بن مرداس،ج۴،ص۳۹۰)