Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
259 - 273
صدمہ ہو ا نہ قیامت تک کسی کو ایسا صدمہ ہوگا۔

(۴)میرا دل انکی نعت سے باز رہنے والا نہیں شاید اسی کے صدقے مجھے جنۃ الخلد میں دوام نصیب ہو۔ 

(۵)اسی کے سبب تو میں محمد مصطفےٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب کا امیدوار ہوں اور وہی دن پانے کے لئے میں کوشش و محنت کررہا ہوں۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
روحی الفداء لمن اخلاقہ شھدت                  بانہ   خیر    مولود    من   البشر

عمت  فضائلہ  کل  العباد  کما                  عم البریۃ ضوء الشمس و القمر

انی  تفرست  فیک   الخیر  اعرفہ                  واللہ  یعلم  عن  ماخاننی  البصر

انت  النبی  فمن   یحرم  شفاعتہ                  یوم  الحساب  فقد  ازری  بہ القدر

فثبت   اللہ   مااتاک   من   حسن                   تثبیت موسیٰ و نصراکا لذی نصر

(وسیلۃ الاسلام،ج۱،ص۸۷۔الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ج۳،ص۴۰۰ )
ترجمہ:(۱)میری روح اس پر قربان جس کے اخلاق اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ خیرالبشرصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔

(۲)آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے احسانات سارے بندو ں پر عام ہیں جیسے آفتاب و ماہتاب کی روشنی ساری مخلوق کو عام ہے۔

(۳)میں نے غور کرکے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے اندر بھلائی دیکھ لی جسے میں پہچانتا ہوں اورخداعزوجل جانتا ہے کہ میری آنکھوں نے مجھ سے خیانت نہیں کی۔

(۴)آپ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں جو شخص بروزقیامت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم
Flag Counter