| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
فامسیٰ سراجاً مستنیرا ًوھادیا یلوح کما لاح الصقیل المھند وانذرنا نارا و بشر جنۃ وعلمنا الاسلام فاللہ نحمد
ترجمہ:(۱)اس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے اجلال واکرام کے لئے اپنے نام سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام مشتق کیا تو رب عرش عزوجل محمود ہے اور یہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔ (۲)یہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم بڑی ناامیدی اور رسولوں علیہم السلام کے ایک طویل وقفہ کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ زمین پر بتوں کی پرستش ہورہی تھی۔ (۳)تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم روشن چراغ اور ہادی و رہبر بن کراس طرح چمکے جیسے صیقل کردہ ہندی تلوار چمکتی ہے۔ (۴)ہمیں جہنم کا ڈر سنایا اور جنت کی بشارت دی اور ہمیں اسلام کی تعلیم دی تو ہم خداعزوجل ہی کی حمد بیان کرتے ہیں۔
ھجوت محمدًا واجبت عنہ وعند اللہ فی ذاک الجزاء
اتھجوہ ولست لہ بکفء فشر کما لخیرکما الفداء
ھجوت مبارکا برا حنیفا امین اللہ شیمتہ الوفاء
امن یھجو رسول اللہ منکم و یمدحہ و ینصرہ سواء
فان ابی و والدہ و عرضی لعرض محمد منکم وقاء
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام،شعر حسان فی فتح مکۃ،ج۴،ص۳۵۹)ترجمہ:(۱) تونے محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہجوکی تو میں نے ان کی طرف سے تمہیں جواب دیا اور خدا عزوجل کے یہاں اس میں اجرو ثواب ہے۔