تکذیب کی تو خبر رکھنے والے نبی نے ہم سے سچی بات کہی ۔
(۲)میں نے بنت خطاب پر زیادتی کی پھر میرے رب عزوجل نے اس شام کو مجھے ہدایت دی جب لوگوں نے کہا کہ عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آبائی دین سے نکل گیا ہے۔
(۳) اورپھر جب اس نے دل سوزی سے اپنے رب عزوجل کو پکار ا اور اسکی آنکھوں سے آنسوبڑی تیزی سے رواں تھے۔
(۴) تو میں نے کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل ہمارا خالق ہے اورا حمد مجتبیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آج ہمارے درمیان مشہور و متعارف ہیں۔
(۵)کہ وہ سچے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں جو مستند دلیل و برہان لائے اور وہ امانت دار ہیں ان کے وعدے کمزور نہیں۔