Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
253 - 273
بارگاہ رسالت میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا خراج عقیدت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
لما      رأیت     نبینا      متجدلا                                 ضاقت علی بعرضھن  الدور

فارتاع  قلبی  عند  ذاک  لھلکہ                             و العظم منی ما حییت کسیر

یالیتنی من قبل مھلک صاحبی                     غیبت فی جدث علی صخور 



(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد العاشر،الفصل الاول فی اتمامہ ...الخ،ج۱۲،ص۱۵۱)
ترجمہ: (۱) جب میں نے اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو وفات یافتہ دیکھا تو مکانات اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئے۔

(۲) اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات سے میرا دل لرز اٹھا اور زندگی بھر میری ہڈی شکستہ رہے گی۔

(۳) کاش! میں اپنے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے انتقال سے پہلے قبر میں دفن کردیا گیا ہوتا اور مجھ پر پتھر ہوتے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ
وقد بدأنا فکذ بنا فقال لنا                       صدق الحدیث نبی عندہ الخبر 

وقد ظلمت ابنۃ الخطاب ثم ھدیٰ           ربی عشیۃ قالوا قد صبا عمر 

لما دعت ربھا ذاالعرش جاہدۃ                والدمع من عینھا عجلان یبتدر

فقلت اشھد ان اللہ خالقنا                       وأن احمد فینا الیوم مشتھر 

نبی صدق اتیٰ بالحجۃ من ثقۃ                  وافی الاما نۃ مافی وعدہ خور 

                    (سیرت ابن اسحاق،ج۲،ص۱۵۳)
ترجمہ:(۱) اور ہم پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے آغاز تبلیغ کی جس کی ہم نے
Flag Counter