اسی لئے صحابہ کرام علیھم الرضوان ایک لمحہ کے لئے بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بے چین دیکھنا گوارا نہ کرتے۔ فتح مکہ سے پہلے مشہور صحابی حضرت زیدرضی اللہ عنہ دشمنان اسلام کے نرغے میں آگئے، صفوان بن امیہ نے ان کو قتل کرنے کے لئے اپنے غلام نِسطاس کے ساتھ تنعیم بھیجا۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدود حرم سے باہر لے جایا گیا، تو ابوسفیان نے (جو ابھی اسلام نہ لائے تھے) ان سے پوچھا:زید! میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم پسند کرسکتے ہو کہ اس وقت ہمارے پاس تمہاری جگہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم) ہوں اور ہم ان کو قتل کریں اور تم آرام و سکون سے اپنے اہل میں رہو ۔ حضرت زید نے جواب دیا اللہ عزوجل کی قسم! میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اس وقت میرے حضور جہاں کہیں بھی ہوں ان کو ایک کانٹا بھی چبھے اور میں آرام و سکون سے اپنے اہل میں رہوں۔یہ سنکر ابوسفیان نے کہا میں نے ایسا کہیں نہیں دیکھا کہ کسی سے ایسی محبت کی جاتی ہو، جیسی محبت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ان کے اصحاب کرتے ہیں ،رضی اللہ عنہم ۔اسکے بعد حضرت زیدرضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا ۔
(شرح الشفاء للقاضی عیاض،باب الثانی ، فصل فیما روی عن السلف،ج۲،ص۴۴)