| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صحبت میں پہنچنے کے بعد آپ کے لئے اپنا چین چین نہ سمجھا اپنی راحت، راحت نہ سمجھی اپنی جان، جان نہ سمجھی، بلکہ یہ سب کچھ آپ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم پر قربان کردیا تھا۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سفر میں ہوتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو ہر طرح کا آرام پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے ۔دھوپ کا وقت ہوتا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے سائے کا انتظام کرتے، پڑاؤ ڈالا جاتا توخیمہ نصب کرتے،معرکوں میں ہوتے تو یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے محافظ ہوتے ۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت آگیا تو انکی زوجہ نے کہا وَاحُزْنَاہ، (ہائے غم)۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، نہیں بلکہ
''وَاطَرَبَاہ، اَلْقٰی غَدًا الْاَحِبَّہ مُحَمَّدًا وَّصَحْبَہ''
(شرح الشفاء للقاضی عیاض،باب الثانی ، فصل فیما روی عن السلف،ج۲،ص۴۳)
واہ خوشی! کل ہم محمد اور ان کے اصحاب سے ملیں گے (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
اورجس سے محبت ہوتی ہے اس کی ہر چیز سے محبت ہوتی ہے اس کی ہرادا سے محبت، اس کی رفتار سے محبت ، اسکی گفتار سے محبت ، اس کے لباس وطعام سے محبت ،غرض اس کی ہر چیز سے محبت ہوتی ہے۔
حضرت عبیدہ بن جریح نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا :میں نے دیکھا آپ بیل کے دباغت کئے ہوئے چمڑے کا بے بال جوتا پہنتے ہیں۔حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایسا ہی جوتا پہنا کرتے تھے جس میں بال نہ ہوں اسی لئے میں بھی ایسا ہی جوتا پہنناپسند کرتا ہوں۔(صحیح البخاری، کتاب الوضوء ، با ب غسل الرجلین.....الخ،الحدیث ۸۶۶، ج۱،ص۸۰)