| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
کب تشریف لائيں گے۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اشہد ان محمدا رسول اللہ منہ سے نکالا اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو آنکھوں سے نہ دیکھا تو غم ہجر میں بے ہوش ہو کر گر گئے اور بہت دیر کے بعد ہوش میں آکراٹھے اور روتے رہے۔پھر ملک شام چلے گئے۔(مدارج النبوت،باب دہم،درذکر مؤذنین...الخ،ج۲،ص۵۸۳)
روضہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئیں اور آکر عرض کیا کہ مجھے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کر ادو، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حجر ہ شریفہ کھولا، انھوں نے زیار ت کی اورزیارت کرکے روتی رہیں اور روتے روتے انتقال فرماگئیں۔
رضی اللہ تعالیٰ عنہا و ارضاھاعنا۔
(الشفاء للقاضی عیاض،کتاب فی لزوم محبتہ علیہ السلام، فصل فیماروی.....الخ، ج۲،ص۴۴)
رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم صحابہ کر ام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی نظر میں
رسول خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ باوقار تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر ادا پر وقار تھی۔ (حضرت خارجہ بن زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ )
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خاموشی ، حلم اورقوت ،تفکر اور تدبر کی آئینہ دار تھی۔(حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
رسول خداعزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے کلام میں ترتیل و ترسیل کی صفت تھی یعنی ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے۔(حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)