کیونکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عشق ہے۔ یہ سنکر ایک صاحب جا کر حضرت حسن اورحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو بلالائے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آج ہمیں بھی وہی اذان سنا دو جو ہمارے نانا جان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو سنایا کرتے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھا کر کہا۔ تم میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے جگر پارہ ہو، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے باغ کے پھول ہو ،جو کچھ تم کہو گے منظور کروں گا، تمہیں رنجیدہ نہ کروں گا کہ اس طرح حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو مزارمبارک میں رنج پہنچے گا اور پھر فرمایا: حسین !رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے لے چلو جہاں کہو گے اذان کہہ دو ں گا۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو مسجد کی چھت پر کھڑا کردیا۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہنا شروع کی اللہ اکبر! اللہ اکبر ! مدینہ منورہ میں یہ وقت عجب غم اور صدمہ کا وقت تھا۔ آج مہینوں کے بعد اذانِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنکر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی دنیوی حیات مبارک کا سماں بندھ گیا۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنکر مدینہ منورہ کے بازار وگلی کوچوں سے لوگ آن کر مسجد میں جمع ہوئے ہرایک شخص گھر سے نکل آیا ۔ پردہ والی عورتیں باہر آگئیں اپنے بچوں کو ساتھ لائیں۔ جس وقت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے