ہو ئے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ پہلے سیدھے مسجد نبوی(علی صاحبہ الصلوۃوالسلام) پہنچے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو ڈھونڈا ،مگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہ دیکھا ،پھر حجروں میں تلاش کیا جب وہاں بھی نہ ملے تب مزارانور پر حاضر ہوئے اورروکر عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم حلب سے غلام کو یہ فرما کر بلایا کہ ہم سے مل جاؤ اور جب بلال زیارت کے لئے حاضر ہو ا تب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پردہ میں چھپ گئے۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے ہوش ہو کر قبر انور کے پاس گر گئے ،بہت دیر میں جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوش آیا تو لوگ قبر انور سے اٹھا کر باہر لائے ۔
اس عرصہ میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے کا سارے مدینہ میں غل ہوا کہ آج رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ہیں ۔ سب نے مل کرحضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی اللہ عزوجل کے لئے ایک دفعہ وہ اذان سنادوجو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو سناتے تھے۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے،دوستو! یہ بات میری طاقت سے باہر ہے کیونکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات ظاہری میں اذان دیتا تھا تو جس وقت