علیہ وآلہٖ وسلم نے ہماری ہم نشینی اختیار کی، ہم میں نکاح کیا، ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمایا، بھیڑ کے بالوں(اون) کا کپڑا پہنا، جانوروں کی سواری کی، کسی کو اپنے پیچھے بھی سوار کرنا پسند کرلیا، اور اپنا کھا نازمین پر رکھنا گوارا کیا، یہ سب کچھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا تواضع تھا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم!
اللہ عزوجل تجھ سے راضی ہواے عمر! ا ے وہ جس نے اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کی، اور اے وہ !جس سے خود اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے محبت رکھی۔
غمِ ہجر: حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑی محبت تھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا جب وصال ہوگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے تھے کہ لوگو! تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو یا مجھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا پتا بتادو۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس غم ہجر میں مدینے کو چھوڑ کر ملک شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ ایک سال کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو خواب میں دیکھا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ !تم نے ہم سے ملنا کیوں چھوڑ ا ؟کیا تمھارا دل ہم سے ملنے کو نہیں چاہتا؟
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ خواب دیکھ کر ،لبیک یا سیدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم! اے آقا! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم غلام حاضر ہے، کہتے ہوئے اٹھے اور اسی وقت رات ہی کو اونٹنی پر سوار ہو کر مدینے کو چل پڑے۔ رات دن برابر چل کر مدینہ منورہ میں داخل